موبائل براڈبینڈ، لیپ ٹاپ پر کوشش
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Wednesday، 19 November 2008فون کمپنیاں، چِپ بنانے والی کمپنیاں اور کمپیوٹر بنانے والی کمپنیاں یکجا ہو کر موبائل براڈبینڈ کو لیپ ٹاپ پر لانے کی کوشش کریں گے۔
یہ لیپ ٹاپ میں اکانوے ممالک میں فروخت کے لیے کرسمس میں دستیاب ہوں گے۔
اس کی انٹرنیٹ پر براؤزنگ کی تیز ترین رفتار سات میگابِٹس فی سیکنڈ ہو گی۔
جی ایس ایم کے ترجمان اوہارا کا کہنا ہے ’اس کی رفتار وائی فائی کی رفتار کے قریب تر ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ لیپ ٹاپ عنقریب موبائل فون کی دکانوں پر بھی بیچے جائیں گے۔ ’آپ آپریٹر کے سٹور پر جائیں اور لیپ ٹاپ خریدیں اور آن لائن ہو جائیں۔‘
یہ لیپ ٹاپ اسی طرح کی ایجاد ہے جس طرح وائی فائی انٹرنیٹ کی دنیا میں جدت لایا تھا اور ابتدا میں یہ ایک کارڈ کی صورت میں تھا لیکن بعد میں لیپ ٹاپس ہی میں نصب کیا گیا تھا۔
موبائل کتنے خطرناک ہیں
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Tuesday، 18 November 2008
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی موبائل فون کمپنیوں کو مارکیٹ سے پری ایکٹو سمز اٹھانے کیلئے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Tuesday، 18 November 2008سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تمام موبائل فون کمپنیوں کو مارکیٹ میں سے ”پری ایکٹو“سمز اٹھانے کیلئے31 جنوری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ان کمپنیوں سے 79 لاکھ سمز کے اعداد و شمارکی تصدیق کیلئے ایک ہفتہ کے اندر اندر ڈیٹا مانگ لیا ہے جبکہ کمیٹی نے افواہیں پھیلانے، اغواءبرائے تاوان ، دہشت گردی کے واقعات اور دیگر جرائم کی بڑی وجہ غیر قانونی سموں کو قرار دیتے ہوئے موبائل فون کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جس طرح اپنے ممالک میں وہاں کے قوانین پر عملدرآمد کرتے ہیں اسی طرح پاکستان میں بھی پاکستانی قوانین پر عملدرآمد کویقینی بنائیں۔ کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کو چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود کی صدارت میں ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا جس میں ذیلی کمیٹی کے ممبران کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی ، عبدالخالق پیر زادہ موجود تھے۔
اے پی پی
آج کاموبائل گیم * فیفا اسٹریٹ 3
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Tuesday، 11 November 2008موبائل فون کمپنیاں تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے آغاز کیلئے تیاریاں مکمل
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Tuesday، 11 November 2008موبائل فون کمپنیاں تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے آغاز کیلئے تیاریاں مکمل کر چکی ہیں‘ نمبر پورٹیبلٹی کی سہولت کو آسان بناکر نیٹ ورک کی تبدیلی کا دورانیہ 20 دن سے کم کرکے 2 دن کیا جارہا ہے‘ تھری جی کے لائسنس کیلئے موجودہ موبائل فون کمپنیوں کے سوا مزید کمپنیوں کو مدعو نہیں کیا جانا چاہیے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے حکومت سازگار ماحول فراہم کرے
موبائل کمپنی ٹیلی نار کے سینئر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ عرفان وہاب سمیت دیگر عہدیداروں کا ورکشاپ سے خطاب
موبائل فون کمپنیاں ملک میں تھری جی موبائل فون ٹیکنالوجی کے آغاز کے لئے تیاریاں مکمل کر چکی ہیں‘ نمبر پورٹیبلٹی کی سہولت کو آسان بناکر نیٹ ورک کی تبدیلی کا دورانیہ 20 دن سے کم کرکے 2 دن کیا جارہا ہے‘ پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی تھری جی لائسنسنگ کے لئے دستاویزات تیار کرنے میں مصروف ہے‘ موجودہ موبائل فون کمپنیوں کے سوا تھری جی کے لئے مزید کمپنیوں کو مدعو نہیں کیا جانا چاہیے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے حکومت سازگار ماحول فراہم کرے‘ ایشیا میں سو فیصد موبائل سہولت جی ایس ایم پر فراہم کی جارہی ہے‘ حکومت ٹیلی کام خصوصاً موبائل فون کی صنعت کے فروغ کے لئے نئی پالیسی کا جلد اعلان کرے
گردن پر کجھلی اور خارش رہنے کی وجہ موبائل فون کا زیادہ استعمال ہے۔طبی ماہرین
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Tuesday، 11 November 2008برطانوی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ گردن پر کجھلی اور خارش رہنے کی ایک وجہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بھی ہے۔ دنیا بھر میں کان کے اندر کجھلی ، خارش اور گردن کی جلد پر خارش ، الرجی ادویات کے باوجود ٹھیک نہیں ہوتیں جب اس بارے میں باقاعدہ تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ موبائل فون سے نکلنے والی برقی شعاعیں اس جلدی ردعمل کا باعث بن رہی ہیں جو موبائل فون میں استعمال ہونے والے ”نکل“ سے ٹکرا کر ایک خاص طرح کے ارتعاش سے جلد میں خارش کا باعث بنی ہیں اگر کسی خاتون نے گلے یا کانوں میں زیور پہن رکھا ہو تو یہ ارتعاش مزید تیز ہوجاتا ہے ۔
T-Mobile G1 Video 1st Look
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Monday، 10 November 2008
سید مصطفیٰ کمال دنیا کے دوسرےسرکردہ ناظم
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Monday، 10 November 2008یہ خبر
ARY ONE WORLD
کے انٹرنیٹ ایڈیشن سے لی گئی ہے

کراچی کے سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کا نام دنیا کے تین سرکردہ مئرز میں شامل کر لیا گیا ہے .امریکی جریدے فارن پالیسی کے مطابق سید مصطفیٰ کمال کا نام دوسرے نمبر پر ہے ۔
سٹی ناظم کے تعارف میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایسے شہر کے مئر ہیں جو کروڑوں کی آبادی والا ہے اورایسے میں اس شہر کو کئی طرح کے بڑے چیلنجز ہیں لیکن نوجوان مئر مصطفیٰ کمال اس صورت حال کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے بہت پر عزم ہیں اس کے لیے وہ شہر میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں ۔
مصطفی کمال نے شہر کو گرین بنانے کا عزم کر رکھا ہے اور اس کے لیے انہوں نے سخت ہدایت کی ہے کہ جس نے پودے اکھاڑے یا درخت کاٹے تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا،اس لسٹ میں پہلے نمبر پر برلن اور تیسرے نمبر پر چین کے شہر چونگنگ کا نام ہے۔۔۔
وائرلیس لوکل لوپ سیکٹر میں ترقی کارجحان‘ صارفین کی تعداد 2260758 ہوگئی
تحرير کردہ: فرحان دانش بتاريخ: Monday، 3 November 2008یہ خبرروزنامہ جنگ کے انٹرنیٹ ایڈیشن سے لی گئی ہے.
وائرلیس لوکل لوپ صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ فکسڈلائن سیکٹر میں کمی کارجحان نمایاں ہے۔ ٹیلی کام اتھارٹی کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق فکسڈلائین سیکٹر کے گزشتہ سال کل صارفین کی تعداد4806206تھی جو کم ہو کر2008میں4546443رہ گئی ہے جبکہ وائرلیس لوکل لوپ صارفین کی تعداد2007میں1850234تھی جو 2008میں2260758ہوچکی ہے۔ اس طرح وائر لیس لوکل لوپ سیکٹر مسلسل ترقی کررہا ہے۔ جولائی 2008میں پی ٹی سی ایل وی فون کے صارفین کی تعداد1126585تھی جو اگست میں بڑھ کر1139399ہوچکی ہے۔ ٹیلی کارڈکے صارفین اس دورانیہ میں523773سے بڑھ کر 534809 ہو چکے ہیں۔ورلڈ کال کے صارفین500159سے بڑھ کر 509606ہوچکے ہیں۔ گریٹ بیرکے صارفین47214 سے کم ہوکر43847جبکہ براق کے صارفین کی تعداد میں 12کا اضافہ ہوسکا ہے۔ جولائی میں388تھے۔ اگست میں 400ہوسکے ہیں۔ فکسڈلائین سیکٹر میں نمایاں حصہ پی ٹی سی ایل کے پاس ہے۔ جون2007میں اس کے صارفین کی تعداد4676204تھی جو2008میں کم ہوکر4405161 ہوگئی ہے۔این ٹی سی کے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال99665تھی جو موجودہ سال میں 103059تک پہنچ گئی ہے۔ برین لمیٹڈ صارفین کی تعداد میں ایک ہزار سے زیادہ اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال 6089 صارفین تھے۔ اس سال7376تک پہنچ گئے ہیں۔ ورلڈ کال کے صارفین کی تعداد میں چند سو کااضافہ ہوا ہے۔گزشتہ سال10748صارفین تھے۔ اس سال11347تک پہنچ گئے۔ یونین کمیونیکیشن اور سنیائل کے صارفین میں بھی اضافہ ہوا ہے تاہم مجموعی طورپر3لاکھ سے زیادہ فکسڈ لائین سروس کو چھوڑچکے ہیں۔ اس طرح فکسڈ لائین کی ٹیلی ڈینٹی میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی ہے جو2008میں2.80تک رہی ہے جو کہ 2007میں3.04فیصد تھی۔


حاليہ آراء